Home / Articles / ایسا ریسٹورنٹ جہاں پر خواتین کے اس حصے کو دیکھ کر ڈسکائونٹ دیاجاتاہے۔ایسا انکشاف کے حیران ہو جائیں

ایسا ریسٹورنٹ جہاں پر خواتین کے اس حصے کو دیکھ کر ڈسکائونٹ دیاجاتاہے۔ایسا انکشاف کے حیران ہو جائیں

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک )روس کا ایک ایسا ریسٹورنٹ جہاں خواتین کی آنکھیں اورانکی رنگت کو دیکھ کر انھیں ڈسکاؤنٹ دیا جاتا ہے ۔دنیا بھر میں بہت سی ڈسکاؤنٹ آفرز متعارف کروائی گئیں ہیں جن پر مختلف قسم کے ڈسکاؤنٹس دیئے جاتے ہیں اور لوگ ان سئے بھرپور فائدہ بھی اٹھاتے ہیں لیکن روس میں ایسی ڈسکاؤنٹ آفر متعارف کروائی گئی ہے جس کے بارے جان کر آپ حیران رہ جائیں گے۔

آ پ اسے بے حیائی بھی کہہ سکتے ہیں اور بے راہ روی کا بھی رنگ دے سکتے ہیں لیکن یہ ایک ایسی منفرد آفر تھی جس کی طرف بہت سے لوگ متوجہ ہوئے اور فائدہ بھی اٹھایا۔تفصیلات کے مطابق وہاں آنے والی خواتین کی رنگت انکی آنکھوں کا رنگ اور انکے جسم کی ڈھال دیکھ کرانھیں ڈسکاؤنٹ دیا جاتا ہے اورریسٹورنٹ انتظامیہ نے اس آفر کا اشتہار بھی نصب کر رکھا تھا جس میں ان کے نسوانی حسن کو خوب ترجیح دی گئی تھی۔

یہ بیہودہ اشتہار سامنے آنے کی دیر تھی کہ ہر جانب سے اس اخلاق باختہ حرکت پر تنقید شروع ہو گئی۔ روسی سوشل میڈیا صارفین نے ریسٹورنٹ انتظامیہ کی بے حیائی اور شیطانی سوچ پر سخت حیرت کا اظہار کیا اور اس اشتہار کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

انٹرنیٹ پر غصے کا سیلاب امڈ آنے کے بعد ویب سائٹ انسٹا گرام نے خود ہی اس اشتہار کو ختم کر دیا، تا ہم ریسٹورنٹ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اب تک 48 لڑکیاں اس ڈسکاؤنٹ آفر سے فائدہ اٹھا چکی ہیں۔ ویب سائٹ انسٹا گرام نے خود ہی اس اشتہار کو ختم کر دیا، تا ہم ریسٹورنٹ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اب تک 48 لڑکیاں اس ڈسکاؤنٹ آفر سے فائدہ اٹھا چکی ہیں۔

ایک نوجوان نے ایک عالم دین سے پوچھا؟ میں ایک جوان ہوں اور نامحرم دیکھنے کے لئے مجبور ہوں ،اور اپنے آپ کو نہیں روک پاتا، اس صورت میں کیا کروں؟ عالم دین نے اسکی بات پہ غور کیا اور اسے ایک برتن دیا جو دودھ سے لبالب بھرا ہوا تھا اور تاکید کی کہ کوزے کو فلاں جگہ تک لے جاؤ اور خیال رکھنا کہ دودھ نہ گرے، پھر کہا میں خود بھی ساتھ چلتا ہوں

اگر تم سے دودھ گرا تو میں سب لوگوں کے سامنے وہی تمہیں اس چھڑی سے ماروں گا. جوان کوزے کو صحیح و منزل تک لے گیا اتنی احتیاط سے کہ ایک قطرہ بھی دودھ کا نہ گرا. تب عالم دین نے اس سے پوچھا؟ راستے میں کتنی لڑکیوں کو دیکھا ؟ جوان نے جواب دیا کسی کو بھی نہیں.

میں اس فکر میں تھا کہ دودھ کو احتیاط سے منزل تک پہنچا دوں تاکہ لوگوں کے سامنے مار کھا کر ذلیل نہ ہوں

عالم دین نے کہا! یہ اس مؤمن کی داستان ہے جو خدا کو ہمیشہ اپنے کاموں پر حاضر و ناظر جانتا ہے. اور قیامت کے دن وہ نہیں چاہتا کہ اپنے حساب و کتاب کے ذریعے لوگوں کی نظروں سے گرے. ایمان کے بعد بڑی نعمت نیک عورت ہے. (حضرت عمر فاروقؓ) جوآدمی خود کو عالم کہے وہ جاہل ہے اور جو خود کو جنتی کہے وہ جہنمی ہے. (حضرت عمر فاروقؓ) طالب دنیا کو علم پڑھانا راہزن کے ہاتھ میں تلوار دینے کے مترادف ہے. (حضرت عمر فاروقؓ) کم بولنا حکمت، کم کھانا صحت، کم سونا عبادت اور عوام سے کم ملنا عافیت ہے. (حضرت عمر فاروقؓ)

دیگراں را نصیحت

دروازے کی گھنٹی بجی تو سعیدہ تھی — ارے صبح صبح خیر تو ہے ؟ میں بھی ذرا دیر پہلے ہی سو کر اٹھی تھی –

سحری کے بعد فجر کی ادائیگی اور تلاوت کے بعد آنکھ لگ گئی تھی –

رمضان میں اچانک مہمان کا آنا بھی برا نہیں لگتا اور وہ تو اچھی دوست بھی ہے-

یہاں سے گزر رہی تھی سوچا دیکھ لیتی ہوں تم گھر پہ ہو تمہارا فون بھی تو بند آرہاتھا–اور سناؤ روزے کیسے جارہے ہیں– وہ ایک سانس میں ہی گویا ہوئی–

اللہ کا شکر ہے آج تو نواں ہو رہا ہے بس جیسے تیزی سے آتے ہیں ویسے ہی گزرنے لگتے ہیں بس اللہ قبول کرے”

” ارے یہاں آدھے سے زیادہ مسلمان تو روزہ نہیں رکھتے جس سے پوچھو کسی کا کیا اور کسی کا کیا بہانہ ہے –

گرمی بہت ہے –بھوک پیاس برداشت نہیں ہوتی اور بڑوں کو تو ہزار بیماریا ں لگی ہوئی ہیں – ایک مہینے کی تو بات ہے کیا اللہ کی رضا کیلئے اتنا بھی نہیں کرسکتے — خوف خدا تو جیسے ختم ہو گیا ہے بس نام کے مسلمان رہ گئے — اب ماں باپ نہیں رکھتے تو بچے کیا خاک رکھیں گے –کیا تربیت کر رہے ہیں اپنے بچوں کی استغفراللہ-

میرا تو سوچ سوچ کر خون کھولتا ہے -لیکن کیا کر سکتی ہوں- سعیدہ کافی جذباتی ہوگئی تھی ذرا رک کر بولی- ارے ذرا ایک گلاس پانی تو پلادو”

” اور روزہ؟

ارے بھئی کل رات ایک فلم دیکھتے ہوئے دیر سے آنکھ لگی سحری میں آنکھ ہی نہ کھلی اللہ معاف کرے خالی پیٹ تو مجھ سے رکھا نہ گیا ———–

اگلے وقتوں کےہیں یہ لوگ

’’خالہ تو پھر یقیناً خالو میں کمی ہو گی‘‘ میرا اتنے کہنے پر وہ بھڑک اٹھیں ۔’’ ارے نہیں بھئی تمہارے خالو بالکل ٹھیک تھے رحمت اللہ کی اماں کو حمل ہوا تھا پر ضائع ہو گیا‘‘خالہ یہ ماننے کو ہرگز تیار نہیں تھیں کہ خالو میں کوئی کمی تھی یا کوئی خامی تھی۔

میری شادی کے بعد جب میں نئے گھر میں آئی تو معلوم ہوا کہ گھر ماشاء اللہ مہمانوں سے بھرا پڑا ہے۔ گھر کے افراد ہی تقریباً 16 تھے اور 15 سے 20 مہان آ کر ٹھہرے ہوئے تھے۔ لاہور سے ، واہ سے ، پشاور سے اور کراچی سے مہمان شادی میں شریک ہونے آئے تھے ، خالہ ، خالو ان کی پوتی سکینہ نٹو ڈیرو سندھ سے آئے تھے۔ دسمبر کی سردیاں تھیں اور راولپنڈی میں سردیاں اپنے عروج پر تھیں۔ سکینہ اماں اماں کہتے ہوئے خالہ کے ساتھ ساتھ رہتی تھیں یوں لگتا تھا دادی پوتی میں بہت پیار محبت ہے۔ خالہ سے میری یہ پہلی ملاقات تھی۔ ہندوستان میں لکھنؤ کے قریب کے دیہات سے ان کا تعلق تھا اور پوربی ملی ہوئی اردو بولتی تھیں۔

شروع میں تو ان کا لب و لہجہ مجھے بہت عجیب سا لگا اور کچھ باتیں میں سمجھ نہ پائی لیکن بعد میں ان کا انداز گفتگو مجھے بہت پیارا لگتا۔ ویسے بھی بہت محبت کرنے والی خاتون تھیں۔ میرے ساتھ تو ان کا کچھ قلبی سا تعلق ہو گیا۔

خالو پاکستان بننے سے پہلے ہی ملازمت کے سلسلے میں سندھ آئے اور یہیں کے ہو رہے پولیس میں تھانیدار تھے اور ظاہر ہے ایک طرح سے اپنے علاقے کے حاکم تھے۔ شادی کے بعد خالہ کو بھی وہیں لے آئے تھے ان کی بول چال سے سندھی پن جھلکتا تھا۔ وہ سندھ سے اور سندھیوں کے اخلاق اور طور طریقوں سے کافی خوش و متاثر تھے اور بہترین سندھی بولتے تھے۔سندھیوں کی غیرت اور مہمان نوازی کے قصے خاص کر بہت سناتے تھے۔

کچھ عرصے میں مجھے معلوم ہو گیا کہ خالہ اور خالو کی اپنی اولاد نہیں ہے اور سکینہ کے والد ان کے لے پالک بیٹے ہیں۔

’’ابراہیم اور اسماعیل بہت چھوٹے تھے کہ ان کی والدہ گزر گئیں۔ بپوا نے دوسری شادی کر لی۔ ان دونوں کو ہم لے آئے، دونوں کو پالا پوسا ، شادی بیاہ کیا۔ اسماعیل تھوڑا کھٹور ہے پر اپنا ابراہیم بہت محبتی ہے۔ جان چھڑکتا ہے ہمرے اور تمرے خالو کے اوپر ، دولھنیا بھی بہت جان دیتی ہے ہمرے اوپر اور سکینہ تو ہمری بٹیا ہے۔ یوں لگتا تھا خالہ نے اپنی ساری ممتاز ان پر نچھاور کر دی تھی۔”

خالہ کافی دنوں کے لیے رہنے آئی تھیں۔ خالو جان ریٹائر تھے اور سکینہ کا سکول کسی وجہ سے بند تھا۔ میرے اندر بقول کسے کوئی بڈھی روح ہے بزرگوں کی صحبت اور باتوں میں مجھے ہمیشہ سے لطف آتا ہے۔ اور خاص کر ایسے بزرگ جو کہ ہم پراپنی چاہتیں نچھاور کر رہے ہوں اٹھتے بیٹھتے دعائیں دے رہے ہوں۔
ان دنوں پنڈی میں کڑاکے دار سردیاں تھیں۔ ابھی گیس کے ہیٹروں کا رواج نہیں تھا۔ آتش دان میں کوئلے دہکا کر کمرہ گرم کیا جاتا تھا۔ خالہ کو یہ فکر ہوتی کہ کہیں دولہن کو سردای نہ لگ جائے ، صبح صبح آ کر ملازم سے انگیٹھی دہکوا دیتیں۔

ابراہیم اور اسماعیل کوئی غیر نہیں ان کے جیٹھ کے بیٹے تھے۔ ایک دن مجھے بڑی رازداری سے کہنے لگیں ’’‘سنو تمہاری ایک چھوٹی خالہ بھی ہے”

“اچھا آپ کی ایک اور بہن ہے ؟‘‘ مجھے ذرا حیرت ہوئی ۔

کہنے لگیں “ناہیں، جب رحمت اللہ کی اماں بیوہ ہونے کے بعد ہمارے پاس پاکستان آئیں تو تمہارے خالو سے نکاح کر دیا۔”

“ہیں خالہ یہ کیوں؟ ”

” ارے بال بچے کے لیے کہ ان سے اولاد ہو جائے گی۔‘‘

’’خالہ تو پھر ؟”

“چھ سال تو ہوئے گو ا۔ دیکھو اللہ اب بھی دے دے۔ ”

میں تو خالہ کا منہ ہی دیکھتی رہی۔ دو بچے انہوں نے گود لے کر پال پوس لیے او رپھر خالو کی حقیقی اولاد کے حصول کے لیے ان کی دوسری شادی بھی کر دی۔ ایک عورت کے لیے یہ کتنی بڑی قربانی ہے ؟

میری نئی نئی شادی ہوئی تھی اور وہ زمانہ بہت شرم اور لحاظ کا تھا اس لیے میں نے اس موضوع پر کچھ خاص تبصرہ نہ کیا۔

کئی سال کے بعد جب میرے دیور کی شادی تھی تو خالہ خالو اور چھوٹی خالہ بھی شریک ہونے آئے۔

چھوٹی خالہ یعنی خالہ کی سوکن جنہیں وہ رحمت اللہ کی اماں کہ کر پکارتی تھیں۔ جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ پچھلے شوہر سے ان کی پانچ اولادیں تھیں اور خالو سے کوئی اولاد نہیں ہوئی تو مجھ سے رہا نہ گیا ’’خالہ پھر تو خالو میں کوئی کمی ہوگی ؟‘‘ خالہ بھلا خالو کے مردانگی پر کب حرف آنے دیتیں اس بات کو ماننے پر ہرگز تیار نہیں تھیں کہ خالو میں کوئی کمی ہو سکتی ہے ؟۔ انہوں نے کہا کہ ’’ان کا دو مہیناچڑھ گیا تھا جو ضائع ہوا‘‘ وہ کہنے لگیں ’’ہاں کچھ دن اوپر ہو گئے تھے‘‘ خالہ کا بیشتر وقت نماز ، عبادت اور تلاوت میں گزرتا تھا۔

عصر کی نماز کے بعد مغرب تک وہ خاموش رہتیں کوئی ضروری بات چیت ہو تو اشارے کنایئے سے کرتیں۔ زیادہ وقت ان کا اسی حساب کتاب میں گزرتا کہ اس بات کا اتنا اجر ہے اور اتنا ثواب ہے۔ کہتیں ’’جب رحمت اللہ کی اماں سے تمہارے خالو کا نکاح کیا تو چپکے چپکے بہت رووت رہے‘‘ ’’خالہ کیا خالو خود کرنا چاہتے تھے ؟‘‘ ’’ارے ناہی ہم بہت ضد کرکے پیچھے پڑے رہے تو کہنے لگے نیک بخت تمہاری خوشی کے لیے کرتا ہوں۔‘‘

چھوٹی خالہ بڑی خدمت گزار سی خاتون تھیں۔ خالہ کو بو بو کہتی تھیں۔ خالہ خالو کے کپڑے دھونا، استری کرنا بستر جھاڑنا سارے کام کرتی تھیں بلکہ جتنے دن رہیں میرا بھی ہاتھ بٹھاتی رہیں۔ خالہ کی بہت عزت کرتی تھیں۔ ’’تمہارے خالو کا جب نکاح کر دیا تو ہم نے معافی ماننگ لی کہ تھانیدار صاحب ہمرے کو معاف کردو‘‘ ’’اب آپ دونوں میاں بیوی ہو‘‘ ’’تو خالہ آپ نے اپنا کمرہ الگ کر دیا ، کہنے لگیں ’’ناہی تمہرے خالو کہاں مانے ، بیچ میں ان کا پلنگ ہوتا ، ایک طرف ہمرا ، ایک طرف رحمت اللہ کی اماں کا‘‘ اس کی زیادہ تفصیلات نہ انہوں نے بتائیں نہ میں نے کبھی پوچھیں ، یہ وہ زمانہ تھا جب ڈبل بیڈ کا رواج نہیں تھا۔یہ وقت کافی لحاظ کا تھا۔

وقت پر لگا کر اڑتا رہا ، سکینہ کی شادی ایک قابل ، شریف سندھی لڑکے سے ہو گئی لیکن سندھ کے حالات بگڑ گئے ، نئے پرانے سندھی کا جھگڑا کھڑا ہو گیا۔ ہندوستان سے آنے والے مہاجروں کے لیے سندھ نے اپنا دامن واکر دیا تھا اور زیادہ تر کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا تھا۔ شروع شروع میں تو انصار مدینہ والہ جذبہ اور ایثار نظر آیا۔ کراچی تو بقول کسے مہاجروں کا شہر بن گیا لیکن اندرون سندھ بھی مہاجر خوب رچ بس گئے۔ دیہاتی لوگوں نے کھیتیاں اور باغات خرید لیے اور سندھیوں میں گھل مل گئے۔ خالویوں بھی تقسیم سے کافی پہلے آئے تھے۔ اس لیے وہ سندھی زیادہ اور مہاجر کم تھے۔ امرودوں کے موسم میں ہمارے لیے لاڑکانہ کے مخصوص امرودوں کی نوکریاں بھیج دیتے۔ یہ لمبے امرود یہیں کا خاصہ ہے۔ سارا گھر خوشبو سے مہک جاتا پھر سندھ کی ربڑی اور کھویا لا جواب تھا۔ بھٹو کی پہلی بیگم شیریں امیر بیگم سے بھی تعلق تھا۔

حالات بگاڑنے میں سیاستدانوں کا بہت ہاتھ تھا اپنی دکانیں چمکانے کے لیے نئے اور پرانے سندھی کا جھگڑا کھڑا کیا۔ نئے سندھیوں یعنی مہاجروں کا رخ کراچی اور حیدر آباد کی طرف ہو گیا۔ یہ بھی اگرچہ صوبہ سندھ کے شہر تھے لیکن مہاجر یا اردو دان طبقہ یہاں پر اکثریت میں تھا۔

خالو ان دنوں شدید علیل تھے۔ انہوں نے ساری جائیداد ابراہیم کے نام کر دی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد ابراہیم نے اونے پونے جائیداد بیچی کراچی میں الفلاح میں ایک گھر خریدا اپنے بیوی بچوں اور دونوں خالاؤں کو لے کر کراچی چلے آئے۔ خالہ کا میرے پاس اب کافی وقت گزرتا تھا۔ میں نے اپنی ساس کو تو دیکھا نہ تھا لیکن خالہ کے ساتھ مجھے بہت اچھا لگتا تھا۔ چھوٹی خالہ نسبتاً جوان تھیں اور بھاگ بھاگ کر باہر کا سودا سلف لاتیں یا گھر کے چھوٹے موٹے کام نپٹاتیں۔خالہ کو ان سے کوئی شکایت تو درکنار بلکہ کافی انس تھا۔ ہر موقع پر انصاف سے ان کا خیال رکھتیں۔ اپنے لیے کچھ خریدتیں تو رحمت اللہ کی اماں کے لیے بھی وہی خریداری ہوتی۔

’’ارے اب تمہارے خالو تو رہت نہیں‘‘ ہمراکو ہی خیال رکھنا ہے‘‘ بعض اوقات مجھے عجیب سا احساس ہوتا ’’یا اللہ ان کو ان سے کوئی جلن ، حسد نہیں ہے۔‘‘

ارے ہمرے خاطر اپنے بچوں کو چھوڑت رہی ، کہتی ہے بوبو تم کو چھوڑ کے نہیں جاویں گے‘‘ ان کے بچے ہندوستان میں تھے۔ بچے کیا شادی شدہ مرد ، عورت تھے ، بال بچے دار تھے لیکن تو ان کے اپنی سگی اولاد۔

چھوٹی خالہ خاموش سی خاتون تھیں ایک مرتبہ میں نے کریدا تو کہنے لگیں ’’بہت یاد آتے ہیں لیکن بوبو کو چھوڑ کر نہیں جائینگے‘‘ کیا محبت تھی ایسی محبت تو سگی بہنوں میں بھی نہیں ہوئی ؟
خالہ کو لوکی کا رائتہ بے حد پسند تھا۔ ’’لوکی ٹھنڈی رہیت ہے‘‘ ان کی سب سے بڑی فرمائش ہوتی ’’ذرا لوکی کا رَتوا تو بنا دو‘‘

لوکی کے متعلق ایک دن کہنے لگیں‘‘ ارے لوکی ہندو رہیت تھی پھر مسلمان ہو گئی”

میرا ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا۔’’ خالہ! کیا سبزیاں بھی ہندو مسلمان ہوتی ہیں؟‘‘

ان کا خیال رکھ کر بہت خوشی ہوتی تھی۔ بہت دعائیں دیتی تھیں۔

میری دوست زرینہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ ایک دن آئی۔ دونوں لڑکیوں نے ذرا اونچی فراکیں پہنی ہوئی تھیں۔ خالہ کو کافی ناگوار گزرا ’’اے زرینہ اتنی بڑی بڑی لڑکیاں ٹنگوا ننگی کرکے پھرت ہیں، یہ کیا بات ہوئی بھلا ؟”

زرینہ نے جواب دیا “خالہ! ابھی تو چھوٹی ہیں ، پھر تو شلواریں پہنیں گی ہی” ان کے دل میں جو ہوتا یا جسے غلط سمجھتیں فوراً بول دیتیں ۔ ایک ولیمے میں ، میں نے شیفون کی باریک ساری ذرا چھوٹے بلاؤز کے ساتھ پہنی تھی ، خالہ کی ساری توجہ میری پیٹھ کی طرف تھی، بار بار چھو کر کہتیں ’’اس کو تو چھپاؤ‘‘
مسز ریاض سلیو لیس بلاؤز پہن کر آتی تھیں ، ’’ارے اس کو پہن کر نماز کیسے پڑھتی ہو؟”

” جی بڑی چادر لے لیتی ہوں”

“دوسرے مردوں کو دکھاتی ہو، نماز میں چادر لے لیتی ہو” خالہ کو ان کو ان کی منطق سمجھ میں نہیں آتی ، وہ اپنی خفت مٹانے کی کوشش کرنے لگیں۔

ان کی صاف گوئی اکثر لوگوں کو نہ بھاتی لیکن یہ ان کا خاصا تھا کہ جو بات بری لگے منہ پر کہہ دو ، بے حیائی ان کو بالکل نہیں بھاتی تھی۔

ان کی دونوں کلائیوں میں سونے کی چھ، چھ چوڑیاں تھیں۔ ’’تمرے خالو نے بڑی محبت سے پہنائے تھے ، ہمرے کفن دفن کے کام آئیں گی۔‘‘

سکینہ اب بھی اماں کی لاڈلی تھی ، اس کا شوہر بھی ان کا بہت خیال رکھتا تھا ، ہمارے ہاں وہی چھوڑنے اور لینے آئے تھے۔

حج پر جانے کی بہت متمنی تھیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ خواہش بخوبی پوری کر دی ، ان کے حج کے انتظامات میں ، میں نے کافی ساتھ دیا تھا اور اس کے بدلے ان کی کافی دعائیں لی تھیں۔ وہ تو اچھا تھا کہ بشیر بھائی ان دنوں جدہ میں تھے اور انہوں نے ان کا بے حد خیال رکھاز دوسرا بھانجا رفیق لندن سے آیا اور ان کا محِرم بن گیا۔ یوں ان کے حج کے انتظامات خوش اسلوبی سے انجام پائے۔ حج سے آنے کے بعد ان کو سب سے زیادہ دکھ اس بات کا تھا۔ ’’رحمت اللہ کی اماں بھی ہمرے ساتھ ہوتیں تو اور اچھا ہوتا”

“خالہ! آپ کا محرم ان کا محرم نہ ہوتا اور حج کے لیے جھوٹ بولنا پڑتا۔”

بقر عید کے دن تھے مہمانوں کو نپٹا کر ہم خالہ کو عید مبارک کہنے اگلے روز جا سکے۔ ’’اماں دو روز سے ہسپتال میں داخل ہیں‘‘ سکینہ نے بتایا ’’شوگر بہت زیادہ ہو گیا تھا‘‘ ہسپتا ل قریب ہی تھا ہم بھاگم بھاگ پہنچے ، مجھے دیکھ کر ان کی خوش دیدنی تھی ، ہاتھ پکڑ کر مجھے منہ قریب لانے کو کہا ، پیار کیا انتہائی نحیف آواز میں کہنے لگیں “اب ہم تمرے خالو کے پاس جات ہیں”

“نہیں خالہ ایسا مت کہیے” ان کی حالت دیکھ کر میرے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے، ایک مہینہ پہلے تو وہ بھلی چنگی میرے گھر سے آئی تھیں۔

ہسپتال بھی کیا تھا ایک کلینک تھا جس میں دو کمرے تھے اور ایک ڈاکٹر ڈیوٹی پر تھا۔چھوٹی خالہ ان کے تلوے مل رہی تھیں۔

کراچی میں اس طرح کے ہسپتال گلی گلی کھلے ہوئے ہیں۔کوئی معیار نہیں ہے کوئی پابندی نہیں ہے کہ ہسپتال کا اسٹینڈر ڈکیا ہونا چاہیے ، غرضیکہ کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے ۔

ان کو ڈرپ لگی ہوئی تھی ، مجھے تو طبیعت بہت ہی خراب دکھائی دیتی رہی ، میں نے سرمد سے کہا کہ کسی بڑے ہسپتال میں لے جاتے ہیں۔

وہ کہنے لگے ، ’’عید کی وجہ سے سب کچھ بند پڑا ہوا ہے، صبح آ کر دیکھتے ہیں ، اب رات بھی کافی ہو گئی ہے۔”

تقریباً 12 بجے رات کو ہم واپس آئے ، ساری رات بہت بے چینی میں گزرے ، فجر کی نماز سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ فون کی گھنٹی بجی ، سکینہ کی آواز سن کر میرا دل دھک سے رہ گیا روتے ہوئے بولی ، ’’آنٹی اماں نہیں ہیں‘‘ سوئم کے روز چھوٹی خالہ غمزدہ سی میرے پاس آئیں ساری کے پلو سے انہوں نے کلائیاں چھپائی تھیں ، ’’بیٹا بوبو تم کو بہت چاہتی تھیں ، بہت دعائیں دیتی تھیں ‘‘

میرے آنسو ٹپ ٹپ گرتے جا رہے تھے ، ’’خالہ آپ کے ہاتھوں کو کیا ہوا‘‘؟

انہوں نے پَلوہٹایا تو خالہ کی سونے کی چوڑیاں جھلملا رہی تھیں ، نظریں بچائے کہنے لگیں ’’بوبو نے اپنے ہاتھ سے پہنا دی تھیں‘‘

’’ہاں خالہ میں جانتی ہوں ، آپ نے ان کی خدمت بھی بہت کی تھی‘‘ میں نے ان کا ہاتھ پکڑے ہوئے کہا۔
’’بیٹا اب تو ہمرا یہاں کو نو نہیں ، ہم بچوں کے پاس انڈیا چلے جائیں گے‘‘ پہلی مرتبہ میں نے ان سے ان کے بچوں کا سنا۔

چہلم کی فاتحہ میں چھوٹی خالہ گلے مل کر کہنے لگیں ’’بیٹا ہم پرسوں انڈیا جا رہے ہیں ، اب یہاں کس کے کارن رہیں گے ۔ کہا سنا معاف کردو۔۔۔

About admin

Check Also

اعتکاف کرنےوالوں کے بارے

’’حضرت عبداللہ بن عباس ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐنے اعتکاف کرنے والے کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *