Home / Islamic / اسلام اور نبی کریمﷺ کی ناموس مبارکہ

اسلام اور نبی کریمﷺ کی ناموس مبارکہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ساڑھے چار سو سال سے یورپ میں اسلام اور نبی کریمﷺ کی ناموس مبارکہ پر حملے جاری ہیں، پہلی بار یورپ نے پسپائی اختیار کی ہے، پاکستانی حکومت کی کوششوں سے ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلوںکاانعقاد رکنے پر اوریا مقبول جان نے تمام تر کریڈٹ وزیراعظم عمران خان اور ان کی حکومت کو دیتے ہوئے اسے عمران خان کی حکومت کیلئےاللہ تعالیٰ کی جانب سے غیبی امداد قرار دیدیا۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ملک کے معروف تجزیہ کار اور سابق بیوروکریٹ اوریا مقبول جان نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ یورپ میں

اسلام کے خلاف اور نبی کریمﷺ کی ناموس مبارکہ پر حملوں کا سلسلہ ساڑھے چار سو سالوں پر محیط ہے اور آج سے ساڑھے چار سو سال قبل کلیسا کی سرپرستی میں یہ سلسلہ شروع ہو گیا اور اس وقت کتابیں چھپوانے سمیت مختلف اقدامات کئے گئے اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے اور ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلوں کے انعقاد کا اعلان ہوا تو پاکستانی حکومت کی جانب سے سفارتی سطح پر اس کو رکوانے کیلئے کوششیں کی گئیں اور یہ ساڑھے چار سو سال کی یورپ کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ یورپ نے اس حوالے سے پسپائی اختیار کی ہے۔ یہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے غیبی امداد دی گئی ہے اور یہ ان کی خلوص نیت کا صلہ ہے۔ اوریا مقبول جان کا کہنا تھا کہ صوفیا سے پوچھا گیا کہ تصوف کیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ اخلاص نیت اور یہ وزیراعظم عمران خان کی نیت کا نتیجہ ہے رب تعالیٰ نےیہ سعادت ان کی حکومت سے لی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ نے کوئی احسان نہیں کیا بلکہ اقوام متحدہ کے فورم پر دنیا بھر میں ہیٹ سپیچ کا موضوع واضح کر دیا گیا ہے آپ کسی کے نبی اور مقدس شخصیت تو کیا کسی کے ماں باپ کوبھی کچھ نہیں کہہ سکتے اور جیسا کہ پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر اس

ایشو کو اٹھائے گا تو اگر وہاں یہ بات ہو جاتی تو یہ ایک عالمی قانون بن جاتا جس پر فوری طور پر ملعون گیئرٹ ویلڈرز کی جانب سے ان گستاخانہ مقابلوں کے انعقاد کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا۔ پروگرام کے اینکر کا کہنا تھا کہ جس شخص پر اعتراض کیا جاتا تھا کہ مزاروں پر سجدہ کرتا ہے اسی مزاروں پر سجدہ کرنیوالا ناموس رسالتؐ کا محافظ نکلا۔ اوریا مقبول جان کا کہنا تھا کہ وہ تحریک لبیک کے امیر خادم رضوی کو بھی اس کا کریڈٹ دینگے جنہوں نے پاکستان میں سب سے پہلے اس ایشو پر آواز بلند کی اور عملی طور پر آگے بڑھے۔

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *